تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد کے سرکاری ہسپتال سے وابستہ ڈاکٹروں نے اغوا کے بعد قتل ہونے والی ڈاکٹر وردہ کے کیس میں انصاف نہ ملنے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے شاہراہِ ریشم پر جمع ہو کر نعرے بازی کی اور وزیر اعلیٰ کی آمد کے موقع پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں بنائی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئی، جو کہ شدید تشویش کا باعث ہے۔
ڈاکٹروں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ فوری طور پر شائع کی جائے اور اس میں سامنے آنے والی سفارشات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے، انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔
دوسری جانب حویلیاں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے تحصیل چیئرمین عزیر شیر سمیت بلدیاتی نمائندوں نے بھی وزیر اعلیٰ کے قافلے کو روک کر احتجاج کیا۔
یہ بھی پڑھیں:مزاحمت کے بعد مفاہمت ہی ہوتی ہے: شاہ محمود قریشی
بلدیاتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار سال سے صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کو فنڈز جاری نہیں کیے جا رہے، جس کے باعث عوامی مسائل میں شدید اضافہ ہو چکا ہے۔
احتجاج کے باعث شاہراہِ ریشم پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر رہی، جبکہ سیکیورٹی اداروں نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے اضافی نفری تعینات کی۔