تفصیلات کے مطابق 7 اگست 2025 سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا کوئی باقاعدہ لیڈر نہیں تھا، جس کی وجہ سے ایوان میں کئی مرتبہ ہنگامہ اور احتجاج دیکھنے کو ملا۔ اپوزیشن کی جانب سے بار بار اس بات پر احتجاج کیا جا رہا تھا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی موجودگی نہ ہونے کی وجہ سے ایوان کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن کی جانب سے متعدد مشاورتی دوروں کے بعد 16 جنوری کو اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود خان اچکزئی کا نام باضابطہ طور پر اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان رہا ہونگے، آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا: سہیل آفریدی
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اس حوالے سے اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی بھی فرد کا انتخاب اصولوں اور قواعد کے مطابق ہو۔ اس دوران اپوزیشن کی جانب سے کئی بار احتجاج کیا گیا اور ایوان میں قائد حزب اختلاف کے بغیر اجلاس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے۔ اپوزیشن کے احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپیکر نے اس معاملے پر غور و فکر کیا اور بالآخر محمود خان اچکزئی کو اس اہم عہدے کے لیے منتخب کر لیا۔
محمود خان اچکزئی کا تعلق بلوچستان سے ہے اور وہ ایک اہم سیاسی رہنما ہیں۔ ان کی تقرری سے اپوزیشن میں ایک نیا جذبہ اور اتحاد کی فضا پیدا ہو گی۔ ان کے انتخاب سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان بات چیت اور پارلیمانی عمل مزید مؤثر ہو گا۔