یہ فلیگ شپ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پروگرام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت، کارکردگی اور مو ثر فیصلہ سازی کو فروغ دینے کیلئے متعارف کرایا گیا ہے۔ ایچ ای سی حکام کے مطابق مکتب ایک جدید اور مربوط آٹومیشن سسٹم ہے، جس میں انٹرپرائز ریسورس پلاننگ، اسٹوڈنٹ لائف سائیکل مینجمنٹ اور بلیک بورڈ لرننگ مینجمنٹ سسٹم شامل ہیں۔ اس نظام کے ذریعے جامعات کے تعلیمی اور انتظامی معاملات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس، مزید سرکاری اداروں کی نجکاری پر غور
ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ عالمی بینک کے مالی تعاون سے چلنے والے ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ اِن پاکستان پروجیکٹ کے تحت فنڈ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں مکتب کو ملک کی 25 سرکاری یونیورسٹیوں میں نصب کر دیا گیا ہے۔ ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے یونیورسٹیوں کی مجموعی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔