ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے وکیل رانا مدثر عمر کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کر دیں جن میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ کہ نو مئی کے تینوں مقدمات میں سنائی گئی سزاؤں کو کالعدم قرار دیا جائے۔
سابق صوبائی وزیر نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ لیے بغیر تینوں مقدمات میں سزائیں سنائیں ،ٹرائل کورٹ نے جلد بازی میں ٹرائل مکمل کر کے غیر قانونی طور پر سزائیں سنائیں جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یاسمین راشد و دیگر کو 36 برس قید کی سزا
ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ اپیلوں کے حتمی فیصلے تک تینوں مقدمات میں ان کی سزا معطل کی جائے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے تھانہ گلبرگ، نصیر آباد اور ریس کورس میں درج نو مئی کے مقدمات میں سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں۔
اس کو بھی پڑھیں: نو مئی کیس، شاہ محمود بری، یاسمین راشد و دیگر کو دس سال سزا
یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے 9 مئی کے مقدمات میں رہنما پاکستان تحریک انصاف ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر کو سزائیں سنائی تھیں جبکہ عدالت نے سابق وزیر خارجہ و وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا تھا تاہم دیگر مقدمات کے جاری ٹرائل کے باعث شاہ محمود قریشی تاحال جیل میں ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چودھری سمیت دیگر سزاؤں کے باعث پابند سلاسل ہیں۔