اس کے علاوہ عام شہری بھی آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس حاصل کر سکیں گے، اسکیم بینک فنانسنگ کے ذریعے عملی طور پر لاگو کی جائے گی۔
صوبائی وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں اسکیم کی منظوری دی گئی۔، اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں تقریباً 2.5 لاکھ سرکاری ملازمین کے علاج معالجے پر سالانہ 6 سے 7 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، جس کے پیش نظر سرکاری ملازمین کیلئے ہیلتھ انشورنس سکیم بھی متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ پروگرام کو گوادر، کیچ اور آواران تک توسیع دینے کی منظوری دی گئی اور میرٹ پر تعیناتیوں کے اصول کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عام آدمی کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل عوام کی امانت ہیں، انہیں مخصوص طبقے پر خرچ کرنا ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا منعقد کیا جائے گا، سہیل آفریدی
انہوں نے واضح کیا کہ الیکٹرک بائیکس اسکیم اور ہیلتھ انشورنس منصوبے سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا اور نوجوانوں کو معاشی استحکام کے مواقع حاصل ہوں گے۔
واضح رہے کہ یہ اسکیم صوبے میں نوجوانوں کیلئے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے بھی اہم اقدام ہے، جبکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ عوام کی سہولت اور ٹیکنالوجی تک رسائی کو بڑھانے کیلئے یہ منصوبہ فوری طور پر عمل درآمد کیلئے تیار ہے۔