زیادہ بیٹھنا دل کے لیے خاموش خطرہ قرار
lifestyle heart risk
فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): حالیہ تحقیق نے ایک عام مگر نظر انداز کی جانے والی عادت کو ہارٹ اٹیک کی وجہ قرار دے دیا ہے۔

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ روزمرہ زندگی میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا دل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، جرنل بی ایم سی کارڈیوویسکولر ڈیزآڈر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جسمانی سرگرمیوں سے دوری ہارٹ اٹیک اور دیگر امراض قلب کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر دیتی ہے۔

تحقیق میں 1990 سے 2021 تک گلوبل برڈن آف ڈیزز ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جس میں دنیا بھر کے افراد کی جسمانی سرگرمیوں اور صحت سے متعلق رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے، نتائج سے معلوم ہوا کہ اس عرصے کے دوران جسمانی سرگرمیوں میں کمی کے باعث ہر سال دل کی بیماریوں سے اموات کی شرح میں اوسطاً 0.70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل اے آئی کے طبی مشورے سوالیہ نشان بن گئے

محققین کے مطابق ورزش اور متحرک طرز زندگی دل کی صحت کے لیے نہایت موثر ثابت ہوتی ہے، ڈیٹا کے تجزیے سے واضح ہوا کہ جو افراد جسمانی طور پر سرگرم رہتے ہیں ان میں زیادہ وقت بیٹھنے والوں کے مقابلے میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 83 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلے کا حل پیچیدہ نہیں بس روزمرہ معمول میں چہل قدمی، ہلکی پھلکی ورزش اور مسلسل بیٹھنے سے وقفہ لینا دل کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، ان کے مطابق جسم کو متحرک رکھنا ہی دل کی بیماریوں سے بچاؤ کی سب سے موثر حکمت عملی ہے۔