اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر رانا سکندر حیات نے کہا کہ میرا چیلنج ہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی میرے حلقے میں آ کر جلسہ کریں، چارٹر طیارے کا انتظام کر کے دینے کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اجازت بھی لے کر دوں گا۔
رانا سکندر حیات کا مزید کہنا تھا کہ اسی روز میں بھی ان کے سامنے جلسہ کروں گا، پھر دیکھتے ہیں کس کے پروگرام میں لوگ زیادہ آتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پنجاب کا 4 روزہ دورہ کیا تھا اور ان کی پنجاب اسمبلی آمد کے موقع پر بدنظمی پیدا ہوئی تھی جس پر بعدازاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ مریم نواز کو خط بھی لکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دورہ کراچی کا شیڈول سامنے آگیا
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لکھا کہ پنجاب کے دورے کے دوران پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزی اور تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا گیا، پنجاب حکومت کا طرزِ عمل آئینی عہدے کے وقار اور بین الصوبائی احترام کے منافی ہے، میرے دورےکے لیے غیر ضروری سکیورٹی اقدامات اور ہراساں کرنے کا ماحول بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے دورے کے دوران بازار بند، عوامی مقامات سیل اور موٹروے ریسٹ ایریاز تک رسائی روکی گئی، عوامی نقل و حرکت محدود کر کے شہریوں کو شدید مشکلات میں ڈالا گیا، پنجاب میں وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران خوف اور دھمکی کا تاثر دیا گیا۔
سہیل آفریدی نے خط میں لکھا کہ دورے کے ساتھ سوشل میڈیا منظم انداز میں کردار کشی مہم چلائی گئی، ریاست سے منسلک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کردار کشی ناقابل قبول ہے، وزیراعلیٰ پر منشیات سے متعلق سنگین اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ، بغیر ثبوت الزامات آئینی عہدے کی تذلیل کے مترادف ہیں۔
اس کو بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا مزار قائد پر جلسے کا پلان، اجازت مانگ لی
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پروٹوکول کی توہین، پولیس نمائش اور ڈیجیٹل کردار کشی ایک منظم منصوبہ لگتا ہے، یہ طرزِ عمل وفاقی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے، پنجاب حکومت انتظامی و ڈیجیٹل سطح پر ایسے رویے کو معمول نہ بننے دے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کے نام لکھے خط میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے پر شدید احتجاج اور باضابطہ اعتراض ریکارڈ کرایا۔