حکومت اور تحریک انصاف میں مذاکرات؟ مؤقف سامنے آ گیا
PTI government talks
فائل فوٹو
اسلام آباد:(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ اس وقت حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا کوئی ماحول موجود نہیں، جس کے باعث سیاسی ڈیڈلاک برقرار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ تحریک انصاف مذاکرات کی حامی ہے، مگر عملی طور پر کسی قسم کی پیش رفت یا سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 17 ہر سیاسی جماعت کو سیاست کرنے کا حق دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 17 ٹو میں واضح طور پر درج ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اگر ملک کی سالمیت کیخلاف کام کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے، مگر اس کیلئے محض الزامات کافی نہیں ہوتے۔ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں طویل بحث کے بعد الیکشن ایکٹ تشکیل دیا گیا، جس میں واضح کیا گیا کہ کسی جماعت کیخلاف ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد ہونا ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا مزار قائد پر جلسے کا پلان، اجازت مانگ لی

انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت ایسے ثبوت سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں پیش کیے جاتے ہیں، نہ کہ صرف بیانات اور الزامات کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔ موجودہ حکومت خود مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا نہیں کر رہی، اسی وجہ سے بات چیت کا عمل آگے نہیں بڑھ پا رہا۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ جب تک حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور آئینی تقاضوں کے مطابق سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کا حق نہیں دے گی، اس وقت تک مذاکرات کی بحالی مشکل نظر آتی ہے۔