یونیورسٹی کی طالبہ نے چھت سے چھلانگ کیوں لگائی؟ وجہ سامنے آ گئی
University of Lahore student
فائل فوٹو
لاہور: (ویب ڈیسک) لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی جانب سے چھت سے کود کر خودکشی کی کوشش کا معاملہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہا، اب اس واقعے کے اہم حقائق سامنے آ گئے ہیں۔

یہ واقعہ یونیورسٹی آف لاہور میں پیش آیا، جہاں ایک طالبہ نے عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔ خوش قسمتی سے بروقت طبی امداد ملنے پر طالبہ کی جان بچ گئی اور وہ اس وقت لاہور جنرل ہسپتال میں زیرِ علاج ہے، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

طالبہ کی شناخت فاطمہ حسین کے نام سے ہوئی ہے جو یونیورسٹی میں ڈی فارم کی طالبہ ہیں، ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فاطمہ اپنے گھر والوں کی جانب سے پسند کی شادی کی اجازت نہ ملنے پر شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔

ذرائع کے مطابق طالبہ اپنے ایک دوست سے شادی کرنا چاہتی تھیں، تاہم اہلِ خانہ اس رشتے کیخلاف تھے اور ان پر کسی اور جگہ شادی کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اسی معاملے پر گھر میں جھگڑا بھی ہو چکا تھا، جس کے بعد فاطمہ جذباتی طور پر ٹوٹ گئی تھیں۔ اہلِ خانہ کی ناراضگی اور مسلسل دباؤ کے باعث انہوں نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی جانے کے بعد عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔

یہ بھی پڑھیں:ن لیگ فرانس کے سینئر رہنما محمد یوسف خان انتقال کر گئے

واقعے کے فوراً بعد یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ نے زخمی طالبہ کو فوری طور پر لاہور جنرل ہسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے بروقت طبی امداد فراہم کی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق فاطمہ کی دونوں ٹانگوں کی ہڈیاں فریکچر ہو گئی تھیں، جن کی سرجری کر دی گئی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ طالبہ کی حالت اب تسلی بخش ہے اور وہ آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہی ہیں۔