نجی یونیورسٹی میں اقدام خودکشی کرنیوالی طالبہ کی میڈیکل رپورٹ جاری
نجی یونیورسٹی میں خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ کی تازہ میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی، چیئرمین میڈیکل بورڈ نے طالبہ کی طبی رپورٹ پرنسپل پروفیسر فاروق افضل کو پیش کر دی۔
فائل فوٹو
لاہور: (سنو نیوز) نجی یونیورسٹی میں خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ کی تازہ میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی، چیئرمین میڈیکل بورڈ نے طالبہ کی طبی رپورٹ پرنسپل پروفیسر فاروق افضل کو پیش کر دی۔

میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہمریضہ فاطمہ کی حالت بدستور تشویشناک تاہم وائٹلز مستحکم ہیں، مریضہ کی اعصابی حالت میں بتدریج بہتری آرہی ہے اور اس کا جی سی ایس لیول 5-6 تک پہنچ گیا ہے،میڈیکل بورڈ کی سفارش پر فاطمہ کی اینٹی بائیوٹک ادویات میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مریضہ کے سینے کی کنڈیشن میں گزشتہ روز کی نسبت بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، خون اور پلیٹ لیٹس کی منتقلی کا عمل مکمل ہو گیا ہے تاہم فاطمہ تاحال وینٹی لیٹر پر ہے، کل بے ہوشی کی ادویات کم کر کے فاطمہ کا دوبارہ طبی معائنہ کیا جائے گا۔

قبل ازیں پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے جنرل ہسپتال میں زیرِ علاج زخمی طالبہ کی صحت سے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بچی جو نجی یونیورسٹی سے تشوناک حالت میں لائی گئی جنرل ہسپتال لاہور میں زیر علاج ہے، وہ بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لائی گئی ، طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی ، دماغ کی انجری اور دیگر اعضاء بھی متاثر ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: نجی یونیورسٹی کی طالبہ نے چھت سے چھلانگ لگا دی

پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے بتایا کہ ہم نے بورڈ بنایا ہے جو اس کا علاج کر رہا ہے، طالبہ کی ٹانگوں اور ٹخنوں کی سرجری کی ہے، آج گائنی کے ڈاکٹر ز کو بھی میڈیکل بورڈ میں شامل کیا ہے، طالبہ کی حالت آج گزشتہ روز کی نسبت کچھ بہتر ہے۔

میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر جودت سلیم نے میڈیا ٹاک میں بتایا کہ سرجیکل اور آرتھو کی ٹیم نے طالبہ کی طبی حالت کا جائزہ لیا ہے، بچی کے دماغ کی انجری سب سے اہم تھی،بے ہوش ہونے کے ساتھ اس کا بلڈ پریشر کم تھا،ایک پھیپھڑا بھی بہت متاثر ہوا تھا،متاثرہ طالبہ کو دو خون کی بوتلیں لگ چکی ہیں،مزید ایک خون کی بوتل لگ گئی ہے۔

پروفیسر جودت سلیم کا کہنا تھا کہ طالبہ کی چھاتی بھی گرنے سے متاثر ہوئی ہے، نیورو کی ٹیم مزید دو دن مریضہ کو دیکھے گی پھر مہروں کے آپریشن کا فیصلہ کیا جائے گا،مریض آکسیجن پر ہے، طالبہ کو میڈیسن میں رکھا ہے تاکہ وہ آرام کریں،طالبہ کے ہوش میں آنے کے بعد ہی مریضہ کی سر کی انجری کا معلوم ہوسکے گا۔

اس کو بھی پڑھیں: قاتلانہ حملے میں طالب علم رہنما جاں بحق

دوسری جانب طالبہ کے اقدام خودکشی کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے بلڈنگ پر خاردار تاریں لگا دیں جبکہ یونیورسٹی کو ایک ہفتہ کے لیے بند کر دیا گیا۔

علاوہ ازیں متاثرہ طالبہ کی یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی،کلوز سرکٹ فوٹیج میں یونیورسٹی کی تیسری منزل سے طالبہ کو چھلانگ لگاتےدیکھا جا سکتا ہے۔