پاکستان کی نایاب نسل ہمالین گرے گورال کے شکار پر اہلِ علاقہ نے اسے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا، قانونی شکار کے اس عمل کو متعلقہ حکومتی قوانین، وائلڈ لائف ضوابط اور مقامی کمیونٹی کی نگرانی میں مکمل کیا گیا، اہلِ علاقہ نے کنڈر گاؤں کے تمام معززین، کمیٹی ارکان اور منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کیا، امریکی شہری نے مقامی لوگوں کی مہمان نوازی کو بھی سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: 68 ہزار امریکی ڈالرز میں کشمیری مارخور کا شکار
رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع تورغر میں امریکی شہری ڈیرون جیمز ملان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار محکمہ جنگلی حیات کے نان ایکسپورٹ ایبل ٹرافی ہنٹنگ پرمٹ پر گرے گورال کا شکار کیا، محکمہ جنگلی حیات کے مطابق گرے گورال کے شکار سے ساڑھے 54 ہزارامریکی ڈالرز کی آمدن ہوئی۔
مجموعی طور پر گرے کے 6 نان ایکسپورٹیبل پرمٹس فروخت کیے گئے، جس سے 3 لاکھ ساڑھے 98 ہزار امریکی ڈالرز کی آمدن حاصل ہوئی، محکمہ جنگلی حیات نے بتایا کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام سے حاصل آمدن کا 80 فیصد کنزرویشن کمیٹی کے اکاؤنٹ میں جمع ہوگا۔