چترال: 68 ہزار امریکی ڈالرز میں کشمیری مارخور کا شکار
کشمیری مارخور
خیبر پختونخوا کے خوبصورت اور پہاڑی ضلع چترال کے علاقے گہریت گول میں غیرملکی شکاری نے کشمیری مارخور کا شکار کیا/ فائل فوٹو
چترال (ویب ڈیسک): خیبر پختونخوا کے خوبصورت اور پہاڑی ضلع چترال کے علاقے گہریت گول میں ایک غیرملکی شکاری نے کشمیری مارخور کا شکار کر لیا۔ اس شکار کا لائسنس 68 ہزار امریکی ڈالرز میں حاصل کیا گیا، جو پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ کے مقررہ ضابطوں کے تحت جاری کیا گیا تھا۔

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق شکار کرنے والا غیرملکی شہری روس سے تعلق رکھتا ہے، جس نے قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد کشمیری مارخور کے شکار کی اجازت حاصل کی۔ محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ شکار کیے گئے مارخور کے سینگوں کی لمبائی 41 انچ ہے، جو مقررہ معیار کے مطابق ہے۔ حکام کے مطابق ٹرافی ہنٹنگ کے لیے صرف مخصوص عمر اور سائز کے جانوروں کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ نسل کے تسلسل پر منفی اثر نہ پڑے۔

یہ بھی پڑھیں:  دفعہ 144 کے تحت ڈبل سواری پر پابندی عائد

محکمہ جنگلی حیات نے وضاحت کی ہے کہ یہ شکار کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد نہ صرف جنگلی حیات کا تحفظ ہے بلکہ مقامی آبادی کو معاشی فوائد فراہم کرنا بھی ہے۔ اس پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ براہِ راست مقامی کمیونٹی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے، جس میں تعلیم، صحت، بنیادی انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع شامل ہوتے ہیں۔

حکام کے مطابق ٹرافی ہنٹنگ پروگرام نے گزشتہ چند برسوں میں مارخور سمیت دیگر نایاب جنگلی جانوروں کی آبادی میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب مقامی آبادی کو مالی فائدہ ملتا ہے تو وہ غیرقانونی شکار کی روک تھام اور جنگلی حیات کے تحفظ میں زیادہ دلچسپی لیتی ہے۔ اسی وجہ سے چترال اور اس کے گردونواح میں مارخور کی تعداد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کا مزید کہنا ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ کے لیے ہر سال محدود تعداد میں لائسنس جاری کیے جاتے ہیں، تاکہ قدرتی توازن برقرار رہے۔ اس عمل کی نگرانی محکمہ جنگلی حیات کے افسران کرتے ہیں اور تمام مراحل سخت قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق مکمل کیے جاتے ہیں۔