غیر ملکی تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے چمگادڑ سے منتقل ہونے والے ایک نئے وائرس کی شناخت کی ہے جسے طبی طور پر پٹروپائن اوریوریو وائرس کہا جارہا ہے، ماہرین کے مطابق اس وائرس کی علامات نپاہ وائرس سے مشابہ ہیں جس کے باعث خدشہ ہے کہ یہ طویل عرصے سے انسانوں میں بغیر تشخیص کے موجود رہا ہو۔
یہ وائرس بنگلہ دیش کے پانچ ایسے مریضوں میں پایا گیا ہے جن میں نپاہ جیسی علامات تھیں مگر ٹیسٹ منفی آئے، تحقیق میں بتایا گیا کہ ان مریضوں نے کچی کھجور کا رس استعمال کیا تھا جو چمگادڑ سے پھیلنے والے وائرسز کی ایک معروف وجہ سمجھی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: آگ لگنے کی وجہ سامنے آگئی
مریضوں میں شدید سانس کی تکلیف اور اعصابی مسائل دیکھے گئے ہیں جبکہ بعض افراد میں بیماری کے کئی ماہ بعد بھی کمزوری اور چلنے میں دشواری برقرار رہی، ایک مریض کے انتقال کی بھی اطلاع ہے تاہم موت کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ماہرین نے ڈاکٹروں کو ہدایت کی ہے کہ نپاہ جیسی علامات والے مریضوں میں اس نئے وائرس کو بھی مدنظر رکھا جائے، دوسری جانب برطانیہ سمیت عالمی ادارے بھارت میں نپاہ کے حالیہ کیسز پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنانے پر زور دیا جارہا ہے۔