ڈپریشن جیسے عام مگر پیچیدہ ذہنی مرض سے نجات کے لیے ورزش ایک آسان، سستی اور موثر تدبیر ثابت ہو سکتی ہے، برطانیہ کی لنکا شائر یونیورسٹی کی تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمیاں ڈپریشن کی علامات میں نمایاں کمی لا سکتی ہیں۔
تحقیق کے لیے ڈپریشن کے شکار5 ہزار افراد پر کیے گئے 73 کلینیکل ٹرائلز کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں سے بیشتر افراد سکون آور ادویات استعمال کررہے تھے،نتائج کے مطابق ورزش کا اثر ادویات اور نفسیاتی علاج جتنا ہی موثر پایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں: نامعلوم افراد کی فائرنگ، پی ٹی آئی رہنما بیٹے سمیت قتل
ماہرین کے مطابق ورزش سے دماغ میں ایسے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں جو خوشی اور سکون کے احساس بڑھاتے ہیں جبکہ نیورو ٹرانسمیٹرز کے افعال میں بہتری آتی ہے جس سے ڈپریشن کی شدت کم ہوتی ہے، اس کے علاؤہ ورزش دماغی نشوونما میں مدد دینے والے عناصر کو بھی متحرک کرتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ورزش کی نوعیت کا انتخاب فرد کی پسند پر منحصر ہے بعض افراد کو یوگا سے بھی وہی فائدہ ملتا ہے جو جاگنگ سے حاصل ہوتا ہے اہم بات یہ ہے کہ جسم کو حرکت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا نے عوام کیلئے بڑی سہولت متعارف کرا دی
واضح رہے کہ ڈپریشن ایک ایسا ذہنی مرض ہے جو صرف دماغ ہی نہیں بلکہ پورے جسم کو متاثر کرتا ہے اور موجودہ دور میں ہر عمر کے افراد اس کا شکار ہو رہے ہیں، ایسے میں ورزش ایک قدرتی اور موثر سہارا بن سکتی ہے۔