ترجمان نادرا شباہت علی سید کے مطابق ملک بھر میں شادی، طلاق، پیدائش اور وفات کے واقعات تو بڑی تعداد میں ہو رہے ہیں، تاہم ان کا بروقت اندراج نہیں کروایا جا رہا، جو ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شہریوں میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے نادرا نے ریڈیو پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت آگاہی مہم چلائی جائے گی تاکہ لوگ اہم واقعات کا اندراج بروقت کرا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: نئی فیسوں کا اطلاق، درسی کتب 50 فیصد مہنگی ہونے کا امکان
ترجمان نادرا کا کہنا تھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں نادرا کے متعدد مراکز قائم کیے گئے ہیں، اس کے باوجود وہاں رش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کو طویل انتظار اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اب مخصوص علاقوں میں موجود دکانوں پر ای سہولت فرنچائزز قائم کی جا رہی ہیں، جہاں شہری بنیادی شناختی خدمات حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ای سہولت فرنچائزز پر شناختی کارڈ کے حصول اور تجدید کی سہولت تو دستیاب ہو گی، تاہم وہاں شہریوں کے کوائف میں تبدیلی کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کا مقصد نظام کو سادہ اور تیز رکھنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کم وقت میں خدمات حاصل کر سکیں۔ ان منی سینٹرز میں درخواستوں کی پراسیسنگ تیز ہو گی جس سے شہریوں کو شناختی کارڈ جلد حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
مختلف محلوں اور بازاروں میں قائم ان ای سہولت مراکز کے ذریعے عوام کو نہ صرف نادرا سینٹرز کے چکر لگانے سے نجات ملے گی بلکہ روزمرہ زندگی میں درپیش مسائل میں بھی کمی آئے گی۔ شہری حلقوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے نادرا کے نظام پر دباؤ کم ہو گا اور عوام کو بروقت اور باوقار خدمات میسر آئیں گی۔
اس طرح کے دیگر سوالات اور شہریوں کی طرف سے شناختی دستاویزات کے بارے میں پوچھے گئے دیگر کئی سوالات کے جوابات کے لئے دیکھنے کیلیئے مکمل پوڈکاسٹ اس لنک پر ملاحظہ کریں۔