کم نیند، کم عمر؟ نئی تحقیق کا چونکا دینے والا انکشاف
lack of sleep lifespan
فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): نیند کو نظر انداز کرنا صرف تھکن یا سستی کا باعث نہیں بنتا بلکہ یہ عادت زندگی کی مدت کم کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نیند کی کمی اوسط عمر پر گہرے اثرات ڈالتی ہے اور جو افراد رات کی پوری نیند کو معمول نہیں بناتے ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اچھی نیند نہ صرف جسمانی اور ذہنی صحت بحال کرتی ہے بلکہ لمبی زندگی کی پیش گوئی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، محققین کا کہنا ہے کہ مسلسل کم نیند لینے کی عادت انسان کی زندگی کو مختصر بنا سکتی ہے۔

تحقیق کے لیے امریکا کہ ایک بڑے ڈیٹا بیس کا تجزیہ کیا گیا جس کا موازنہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے 2019 سے 2025 کے دوران جمع کیے گئے سروے ڈیٹا سے کیا گیا ہے، اس دوران مختلف طرز زندگی کے عوامل کو جانچا گیا تو نیند کی اہمیت سب سے نمایاں ہو کر سامنے آئی۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی

تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ نیند زندگی کی مدت کے لیے اس قدر فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے، انکے مطابق اگرچہ پہلے بھی نیند کی کمی کو صحت کے مسائل اور موت کے خطرے کے ساتھ جوڑا جاتا رہا ہے مگر یہ پہلی تحقیق ہے جس میں نیند اور اوسط عمر کے درمیان براہ راست تعلق واضح ہوا ہے۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ ہر فرد کو روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند کو معمول بنانا چاہیے، نیند دل کی صحت، مدافعتی نظام اور دماغی کارکردگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہفتے کے آخر میں زیادہ سو کر نیند کی کمی پوری کی جا سکتی ہے مگر تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر رات کی معیاری نیند ہی صحت مند اور طویل زندگی کی ضمانت بنتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے سلیپ ایڈوانسز میں شائع کے گئے ہیں جنہوں نے نیند کی ضرورت کو اہمیت دینے پر زور دیا ہے۔