شکایت کے مطابق، وفات پانے والی خاتون عابدہ پروین، جو داد یال کی رہائشی تھیں، 9 دسمبر کو پمز ہسپتال کے پلمنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں لائی گئیں، پلمنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے پھیپھڑوں کی بایوپسی کرنے کا فیصلہ کیا۔
پھیپھڑوں کی بایوپسی 16 دسمبر کو پمزہسپتال میں کی گئی، تاہم چند گھنٹوں بعد مریضہ کا انتقال ہو گیا۔
بعد میں خاندان کو ایک پرائیویٹ لیبارٹری کی رپورٹ موصول ہوئی جس میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ بایوپسی کے دوران پھیپھڑوں کے بجائے جگر کا ٹشو نکالا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: کھلے نالے میں گرنے سے تین سالہ بچہ جاں بحق
متاثرہ خاندان نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی میں سرکاری شکایت درج کرائی ہے جس میں ہسپتال کی سلپس اور لیبارٹری رپورٹس شامل ہیں۔
شکایت موصول ہونے کے بعد اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔