میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے جس کے جواب میں علی ظفر نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
سیشن عدالت لاہور نے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد علی ظفر کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے میشا شفیع کو جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بغیر ثبوت الزامات کسی کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی : مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 18 افراد ہلاک
اس سے قبل ہائی کورٹ بھی اس معاملے میں اہم فیصلہ دے چکی ہے جہاں میشا شفیع کی سوشل میڈیا پر بیان دینے کی پابندی ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ جسٹس احمد ندیم ارشد نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ اظہار رائے بنیادی حق ضرور ہے مگر اسکی حدود واضح ہیں۔
عدالت کے مطابق کسی بھی شخص کو آزادی اظہار کے نام پر دوسرے کی عزت اور وقار کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور قانون ایسے معاملات میں واضح راہنمائی فراہم کرتا ہے۔