ڈاکٹر فضیلہ عباسی منی لانڈرنگ کیس، حمزہ علی عباسی کا بیان آگیا
Hamza Ali Abbasi statement
فائل فوٹو
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنی بہن ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی خبروں کے بعد وضاحت جاری کر دی ہے۔

انسٹاگرام پر ہفتہ کے روز شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں حمزہ علی عباسی نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی حیثیت میں اس کیس کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی کسی ادارے کی جانب سے ان کے خلاف کوئی تحقیقات جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بہن ایک انتہائی کامیاب پیشہ ور ہیں جن کا اپنا ایک شاندار کیریئر ہے اور وہ اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اپنی بہن کی دیانتداری پر مکمل اعتماد ہے اور یقین ہے کہ ادارے انصاف کو یقینی بنائیں گے اور سچ سامنے آئے گا۔
تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈاکٹر فضیلہ کے پیشہ ورانہ اور قانونی معاملات ان سے الگ ہیں۔
اداکار حمزہ نے کہا میں احترام کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ مجھ سے اس معاملے پر تبصرہ یا سوالات کی توقع نہ کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کی بہن عوامی طور پر اس کیس پر بات کرنا چاہیں تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہوگا۔
اداکار نے خبردار کیا کہ آئندہ اگر ان کا نام اس کیس کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی تو ان کی قانونی ٹیم کارروائی کرے گی۔
جمعرات کے روز، اسلام آباد میں خصوصی جج ہمایوں دلاور نے ڈاکٹر فضیلہ کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی جس کی وجہ ان کی عدم پیشی اور قانونی رعایت کے غلط استعمال کو قرار دیاگیا۔
8 جنوری کو درج ایف آئی آر میں ڈاکٹر فضیلہ پر غیر مجاز غیر ملکی کرنسی لین دین، بغیر لائسنس منی سروس آپریشنز، غیر قانونی ترسیلات زر اور حوالہ/ہنڈی کے ذریعے غیر ملکی کرنسی کے حصول اور
استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ کے 22 بینک اکاؤنٹس تھے جن میں تقریباً 2.5 ارب روپے کا لین دین ہوا جبکہ ان کی ظاہر کردہ آمدنی 4 لاکھ سے 60 لاکھ روپے کے درمیان تھی۔
مزید الزامات میں یہ بھی شامل ہے کہ انہوں نے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹنگ کی حد سے کم غیر ملکی کرنسی بار بار جمع کروائی اور بغیر قانونی دستاویزات کے بیرون ملک رقوم منتقل کیں۔
یہ مقدمہ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت درج کیا گیا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، ایک بینک اکاؤنٹ میں اداکار حمزہ کا نام مشترکہ اکاؤنٹ ہولڈر کے طور پر ان کی والدہ کے ساتھ موجود ہے، تاہم کیس میں ملزم صرف ڈاکٹر فضیلہ کو نامزد کیا گیا ہے۔