ذرائع کے مطابق اداکار رانا آفتاب پر فائرنگ کا واقعہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں پیش آیا جہاں وہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے نکلے ہی تھے کہ نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی جو ان کے سینے میں لگیں اور وہ جانبر نہ ہوسکے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، ریسکیو ٹیموں نے اداکار کا جسد خاکی ہسپتال منتقل کیا جہاں ان کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے۔
ذرائع کے مطابق رانا آفتاب کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا جو موقع سے فرار ہو گئے تاہم واقعے کی وجوہات اور ملزمان سے متعلق مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔
مرحوم کے نمازہ کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا تاہم ان کی بیٹی نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد نماز جنازہ کا اعلان کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: فاطمہ جتوئی کی خودکشی کی کوشش، وجہ کیا بنی؟
63سالہ رانا آفتاب ایکسائز افسر بھی رہے اور چند برس قبل ہی انہوں نے ریٹائرمنٹ لی تھی تاہم اداکاری کے شعبے میں ان کی شناخت نہایت مضبوط تھی، رانا آفتاب نے بے شمار ڈراموں اور فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور اپنی جاندار اداکاری کی بدولت ناظرین کے دلوں میں جگہ بنائی۔
ان کے مشہور ڈراموں میں لال آندھی، لاگ، رکھوالا، ایک محبت آزمائش اور دیگر شامل ہیں، مرحوم اداکار نے پی ٹی وی کی پنجابی کہانیوں میں بھی فن کا لوہا منوایا، وہ فلموں میں اکثر و بیشتر جج یا وکیل کے کردار میں دکھائی دیے۔
ان کی یادگار فلموں میں وحشی گجر ، مس اٹلی، میڈیم چارلی، شیر لاہور اور قبضہ گروپ شامل ہیں۔
اداکار رانا آفتاب کے اچانک انتقال پر شوبز انڈسٹری میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے، فنکاروں، ہدایتکاروں اور مداحوں کی جانب سے رانا افتاب کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔