ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں بتایا کہ ایک فیک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ان کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کی گونج سن کر اور ٹک ٹاک لائیو میں اس کا ذکر ہونے کے بعد انہیں پہلی بار اس ویڈیو کا علم ہوا، جس کے نتیجے میں ان کی زندگی میں ایک قیامت کا سماں تھا۔ فاطمہ نے بتایا کہ وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھیں اور ان کے دل میں خودکشی کے خیالات آنا شروع ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: شادی سے پہلے ہی طلاق؟ ہانیہ عامر کا پیشگوئی پر طنزیہ ردعمل
فاطمہ جتوئی نے مزید کہا کہ اس ویڈیو کے بعد ان کا دل چاہا کہ وہ خود کو مار ڈالیں یا 30 منزلہ عمارت سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیں، لیکن ان کے والدین نے انہیں ایسا کرنے سے روکا اور انہیں حوصلہ دیا۔ ان حالات میں فاطمہ نے قرآن پاک اٹھا کر اپنے دل کو تسلی دی اور ویڈیو پیغام جاری کیا تاکہ اپنے چاہنے والوں کو بتا سکیں کہ ان کے دل میں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ کچھ افراد ان کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور اس فیک ویڈیو کے پیچھے کسی کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دو سالوں سے کچھ لوگ ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور انہیں اذیت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان افراد نے ان کے خاندان کو پریشان کیا اور انہیں گالیاں دیں۔ تاہم، فاطمہ نے کہا کہ ان سب کے باوجود ٹک ٹاک کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں کیا کیونکہ میرے دشمن یہی چاہتے تھے کہ میں ٹک ٹاک کو خیرباد کہہ دوں۔
فاطمہ جتوئی نے اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ فیک ویڈیو کے بعد ایک لمحے کے لیے انہیں خیال آیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیں، مگر پھر سوچا کہ اسلام میں خودکشی حرام ہے۔ انہوں نے اپنے والدین کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے خود کو بچایا اور کہا کہ وہ جانتی تھیں کہ ان کے دشمن یہی چاہتے تھے کہ وہ خودکشی کر لیں۔