معروف براڈکاسٹرعشرت فاطمہ کا 45 سال بعد ریڈیو پاکستان کو خیرباد
Ishrat Fatima
فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے منگل کے روز ریڈیو پاکستان کو الوداع کہہ دیا جس کے ساتھ ہی ان کا 45 سالہ تاریخی سفر اختتام پذیر ہو گیا۔

ریڈیو پاکستان نیوز پر اپنے جذباتی الوداعی خطاب میں عشرت فاطمہ نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا، انہوں نے کہا کہ آج میں ریڈیو پاکستان کے ساتھ اپنی 45 سالہ وابستگی کو الوداع کہہ رہی ہوں، رخصت ہونے سے پہلے میں دل کی گہرائیوں سے آپ (سامعین) اور ریڈیو پاکستان کی شکر گزار ہوں۔

اس اعلان کے دوران عشرت فاطمہ نے سامعین کی جانب سے ملنے والی محبت اور عزت پر اظہارِ تشکر کیا اور اپنے خالق اور والدین کا بھی شکریہ ادا کیا۔

عشرت فاطمہ نے اپنے یوٹیوب چینل پر تیرہ منٹ کی ویڈیو میں اس فیصلے کی وجوہات تفصیل سے بیان کیں، انہوں نے بتایا کہ ان کے کیریئر کا آغاز 1983 میں ہوا تھا اور تب سے وہ اپنے کام کے لیے بے حد پرجوش رہی ہیں، اردو الفاظ کو جوڑ کر خبروں کی پیشکش کرنا ان کی زندگی اور پہچان تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرِداخلہ کا اسلام آباد پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ جب تک میری آواز ساتھ دے، سانس قائم رہے اور چہرہ اس قابل ہو کہ آپ مجھے خوشی سے دیکھ سکیں، میں خبریں پڑھتی رہوں۔

تاہم، انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں یہ احساس دلایا جانے لگا کہ اب ریڈیو پاکستان میں ان کی ضرورت نہیں رہی، آنسوؤں کے ساتھ انہوں نے کہا کہ انہیں اس قدر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کہ ایسا سخت فیصلہ کرنا پڑا۔

انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی آپ کے کام کے ذریعے مقابلہ نہیں کر پاتا تو منفی طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، آپ کی جگہ چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے جو انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔

عشرت فاطمہ نے کہا کہ وہ طویل عرصے تک انتظار کرتی رہیں کہ ماحول بہتر ہو جائے گا، انہیں کام کرنے کی جگہ، میرٹ پر مواقع، سینیارٹی کا احترام اور ان کا جائز مقام دیا جائے گا مگر ایسا نہ ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیں: امپیریل کالج لندن کا پاکستانی طلبہ کے لیے مکمل فنڈڈ اسکالرشپس کا اعلان

ویڈیو کے اختتام پر انہوں نے اپنے ناظرین کو یقین دلایا کہ وہ سوشل میڈیا اور یوٹیوب کے ذریعے اپنے مداحوں سے جڑی رہیں گی اور آئندہ اپنی زندگی کے تجربات اور کہانیاں شیئر کریں گی۔

ان کے استعفے کی خبر سامنے آتے ہی صحافتی اور سوشل حلقوں میں انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا، خاتون صحافی اسماء شیرازی نے انہیں ایک آئیکون، تحریک اور رول ماڈل قرار دیا جبکہ دیگر صحافیوں اور مداحوں نے بھی ان کی خدمات کو سراہا۔