تندور مالکان نے روٹی کی قیمت میں 3 روپے کا اضافہ کردیا
پہلے 17 روپے میں فروخت ہونے والی روٹی اب 20 روپے میں دستیاب ہے، جس سے روزانہ روٹی خریدنے والے شہریوں کے گھریلو اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ روٹی کی قیمت میں اضافے کے ساتھ اس کے آٹے کے پیڑے کا وزن بھی کم کردیا گیا ہے، قیمت بڑھنے کے باوجود روٹی کا وزن کم ہونا عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے، جبکہ پہلے ہی مہنگائی نے عام آدمی کا بجٹ متاثر کر رکھا ہے۔
دوسری جانب تندور مالکان نے قیمت میں اضافے کی وجہ آٹے اور میدے کی بوریوں کو مہنگا ہونا قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمت میں ہر ہفتے اضافہ ہورہا ہے، جس کے باعث تندور چلانے کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
تندور مالکان کے مطابق گیس کی عدم دستیابی بھی کاروبار کیلئے ایک بڑا مسئلہ ہے، گیس نہ آنے کی وجہ سے سلینڈر استعمال کرکے تندور چلانا پڑ رہے ہیں، جس سے اخراجات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
شہریوں نے روٹی کی قیمت میں اضافے اور وزن میں مبینہ کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اس بنیادی غذا کی قیمت بڑھنے سے محدود آمدن والے خاندان زیادہ متاثر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگیا
آٹے، میدے اور ایندھن کے بڑھتے اخراجات کے باعث روٹی کی قیمت میں اضافے نے ایک بار پھر مہنگائی اور عوام کی قوت خرید سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔