عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوگیا
تاہم مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی فراہمی سے متعلق خدشات بدستور برقرار ہیں۔
عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 41 سینٹ، یعنی 0.39 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد قیمت 105.51 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 54 سینٹ، یعنی 0.55 فیصد کم ہوکر 97.43 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
واضح رہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے عالمی منڈی میں سپلائی کے دباؤ کو کم کرنے کیلئے ہنگامی ذخائر سے تیل جاری کرنے کے منصوبے کے تحت 2 کروڑ بیرل سے زائد ڈیزل اور دیگر تیل کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ تیل کی ترسیل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کم کرنے کیلئے بعض ایسے جہازوں پر عائد پابندیاں نرم کرنے یا اٹھانے پر بھی غور کر رہی ہے جو روس، ایران اور وینزویلا سمیت مختلف ممالک سے تیل منتقل کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں پر حملوں اور سعودی عرب و یمن کے حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی نے توانائی کی عالمی ترسیل کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پیدا کر رکھی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی آئندہ قیمتوں کا انحصار سپلائی کی صورت حال، امریکی اقدامات اور مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی حالات پر ہوگا۔