پیٹرول 500 روپے فی لیٹر؟ بڑی خبر آگئی
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روز کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے غریب پاکستانیوں کی کمر ٹوٹتی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 5 اور 6 روپے فی لیٹر تک اضافہ کر دیا گیا۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بہت مہنگا ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے ذرائع سے ملک میں انرجی پیدا نہیں کی، ہم آج بھی 14 سے 18 ارب روپے کی پٹرولیم مصنوعات باہر سے خریدتے ہیں۔ اگر اپنے ذرائع سے بجلی بنائی ہوتی، گاڑیاں چلائی ہوتیں تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کی قیمت میں بڑے اضافے کی تیاری
ان کا کہنا تھا کہ حکومتوں نے شارٹ ٹرم کام کیے، لانگ ٹرم پلاننگ نہیں کی۔ اگر ریفائنریز پر کام کیا ہوتا تو ایران اور روس سے سستا کروڈ لے کر اس کو اپنے ملک میں ریفائن کر سکتے تھے۔
ماہر معاشیات نے مزید کہا کہ اس وقت پٹرول پر فی لیٹر 114 روپے کا ٹیکس ہے، اس میں 85 روپے لیوی ہے۔ انہوں نے ٹیکس وصولی میں ناکامی کا حل لیوی نکالا ہے۔ کاربن میں ہمارا حصہ انتہائی کم لیکن آئی ایم ایف کے کہنے پر 5 روپے کاربن لیوی ٹیکس لگا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت شارٹ کٹ چھوڑ کر لانگ ٹرم اقدامات نہیں کرے گی اور خود انحصاری کی راہ پر نہیں اؔٓئیں گے تو ہم پانچ سال بعد بھی اسی مقام پر کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ لیوی کو 18 فیصد پر فکس کر کے جی ایس ٹی کے مساوی کر دیا جائے۔