ایرانی حملے: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ

ایرانی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ایرانی حملوں اور مشرقی وسطی میں کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں/فائل فوٹو
Updated 14 گھنٹے قبل | Published July, 29 2026 |
ٹوکیو (ویب ڈیسک) ایران کی جانب سے حالیہ میزائل حملوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ برینٹ کروڈ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ دونوں کی قیمتوں میں تین فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ دنیا کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے خطوں میں شامل ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی یا تنازعہ براہِ راست عالمی تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ سرمایہ کار ایسے حالات میں مستقبل کی رسد کے حوالے سے خدشات کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے باعث خام تیل کی خریداری میں اضافہ اور قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آتی ہے۔

ابتدائی ایشیائی ٹریڈنگ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں نے تیزی سے اوپر کا رخ کیا۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا، تاہم اس واقعے کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئے۔

مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت تقریباً 3.67 فیصد اضافے کے بعد 82.17 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

اسی طرح برینٹ کروڈ کی قیمت بھی 3.39 فیصد اضافے کے ساتھ 86.94 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو عالمی مارکیٹ میں سپلائی سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔

مشرق وسطیٰ عالمی تیل کی فراہمی کا مرکز

دنیا میں استعمال ہونے والے خام تیل کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ سے حاصل کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب، ایران، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر جیسے ممالک عالمی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

جب بھی اس خطے میں جنگ، میزائل حملے یا سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو عالمی سرمایہ کار فوری طور پر خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ کہیں تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو جائے۔

سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی طرف بڑھتے ہیں

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے پر سرمایہ کار مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خام تیل کی خریداری بڑھا دیتے ہیں۔ اس اضافی طلب کے نتیجے میں قیمتیں تیزی سے اوپر چلی جاتی ہیں۔ 

آبنائے ہرمز کیوں عالمی منڈی کے لیے انتہائی اہم ہے؟

تیل کی ترسیل کا اہم ترین بحری راستہ

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک سے برآمد ہونے والے خام تیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

اگر کسی بھی وجہ سے اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے یا بحری آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں کمی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جس کا فوری اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔ 

کشیدگی برقرار رہی تو مزید اضافہ ممکن

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا یا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو آئندہ چند دنوں میں خام تیل کی قیمتیں مزید بلند سطح پر جا سکتی ہیں۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں مختلف ممالک میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

مہنگائی میں مزید اضافہ

خام تیل کی قیمت بڑھنے سے صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت، بجلی کی پیداوار اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح بڑھ سکتی ہے۔ 

درآمدی ممالک پر دباؤ 

پاکستان سمیت وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خام تیل درآمد کرتے ہیں، انہیں قیمتوں میں اضافے کی صورت میں زیادہ زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے، جس سے تجارتی خسارہ اور معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیزل مزید مہنگا، پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے کی معمولی کمی

عالمی توانائی مارکیٹ کی نظریں آئندہ پیش رفت پر

ماہرین کے مطابق عالمی توانائی کی منڈی اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، بحری نقل و حمل کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں ہونے والی عسکری پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

اگر حالات معمول پر آتے ہیں تو تیل کی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے، تاہم کشیدگی میں مزید اضافے کی صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی خارج از امکان نہیں۔ سرمایہ کار بھی آنے والے دنوں میں خطے سے متعلق ہر نئی پیش رفت کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں، کیونکہ اس کا براہِ راست اثر نہ صرف توانائی کی عالمی منڈی بلکہ عالمی معیشت، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

 

 

کرنسی، دھاتوں اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ
Currency → PKR
Currency Pair Rate (PKR) Change
🇺🇸 US Dollar USD → PKR 277.86 ▲ 0.01
🇪🇺 Euro EUR → PKR 316.50 ▲ 0.56
🇬🇧 British Pound GBP → PKR 369.37 ▲ 0.06
🇸🇦 Saudi Riyal SAR → PKR 73.92 ▼ 0.22
🇦🇪 UAE Dirham AED → PKR 75.65
🇨🇳 Chinese Yuan CNY → PKR 41.07
Current Metals
Metal Unit Price (PKR) Change
Gold 24K Per Tola 428,705 ▲ 6,562
Gold 22K Per Tola 392,979 ▲ 6,015
Gold 21K Per Tola 375,117 ▲ 5,742
Gold 18K Per Tola 321,529 ▲ 4,922
Silver Per Tola 6,251 ▲ 191
Platinum Per oz (USD) 1,629 ▲ 35.8%
Current Petrol
Fuel Type Unit Price (PKR) Change
Petrol Super Per Litre 334.18 ▼ 1.00
Diesel HSD Per Litre 255.16 ▲ 2.56
High Octane Per Litre 350.00 ▼ 95.00
Kerosene Per Litre 303.10 ▲ 1.96
LPG Per Kg 241.43
ضرور پڑھیں