چھوٹے تاجروں کیلئے فکسڈ ٹیکس اسکیم، طریقہ کار جاری
ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق اہل دکانداروں سے مجموعی سالانہ ٹرن اوور پر ایک فیصد ٹیکس وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس نقد جمع کرانا لازمی ہوگا۔
حکومت کو اسکیم کی کامیابی کی صورت میں سالانہ 50 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔
اسکیم رضاکارانہ ہوگی اور دکاندار چاہیں تو فکسڈ ٹیکس اسکیم کے بجائے معمول کا انکم ٹیکس ریٹرن بھی جمع کرا سکیں گے تاہم ایک سے زائد دکانوں کے مالکان، ٹیئر ون ریٹیلرز، جیولرز اور پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے افراد اس سہولت کے اہل نہیں ہوں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اسکیم میں شامل دکانداروں کو خصوصی “گرین پلیٹ” جاری کی جائے گی ، ٹیکس معاملات کے لیے ایف بی آر افسران گرین پلیٹ والی دکان میں داخل نہیں ہوں گے جبکہ دکانداروں کو پی او ایس مشین نصب کرنے اور معمول کے ٹیکس آڈٹ سے بھی استثنیٰ حاصل ہو گا۔
رجسٹریشن ایف بی آر کے آئی آر آئی ایس پورٹل، موبائل ایپ یا قریبی ٹیکس دفتر کے ذریعے کی جا سکے گی، اس مقصد کے لیے ایک صفحے پر مشتمل آسان ٹیکس ریٹرن فارم بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس میں کاروبار کا نام، پتہ، شناختی کارڈ نمبر، کاروبار کی نوعیت، سالانہ فروخت، خریداری اور اخراجات درج کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فکسڈ ٹیکس اسکیم میں شامل دکانداروں کو کیا فوائد ملیں گے؟
دکانداروں کو خالص منافع، دیگر ذرائع آمدن، ادا شدہ ٹیکس، غیر منقولہ جائیداد، بینک بیلنس، دستیاب نقد رقم اور دیگر اثاثوں کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ معمولی کاروباری سرگرمی کے باوجود بھاری اثاثوں کی خریداری، معلومات چھپانے یا ٹیکس سے بچنے کے لیے اسکیم کے غلط استعمال کی صورت میں آڈٹ اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مسودے پر سات روز کے اندر اعتراضات اور تجاویز بھی طلب کر لی ہیں۔