ملک کے مختلف شہروں میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی سامنے آنا شروع ہوگئے۔
پیٹرولیم ڈیلرز کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی محدود کر دی ہے جس کے باعث مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس کو معمول سے کم مقدار میں پیٹرول اور ڈیزل فراہم کیا جا رہا ہے۔
ڈیلرز کے مطابق اگر سپلائی کی صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو آئندہ دنوں میں متعدد علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔
صدر پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سندھ امیر خان نے بتایا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے تمام پیٹرول پمپس پر ایلوکیشن نافذ کر دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کے تحت پمپس کو ان کی طلب کے مطابق مکمل مقدار فراہم کرنے کے بجائے محدود کوٹہ دیا جا رہا ہے جس سے پیٹرول پمپ مالکان اور صارفین دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپلائی میں مسلسل کمی کی وجہ سے بعض علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل کا موجودہ ذخیرہ تیزی سے ختم ہو سکتا ہے، پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی قطاریں اور غیر ضروری خریداری صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اب روزانہ تبدیل ہوں گی؟
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین طارق حسن نے بھی خبردار کیا ہے کہ ملک بھر میں پیٹرول پمپس کو پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی معمول سے کم مل رہی ہے جس کے باعث قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر اور سپلائی چین کی صورتحال واضح کی جائے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پمپس کو مکمل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے۔
پیٹرولیم ڈیلرز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں ضرورت سے زیادہ پیٹرول یا ڈیزل خریدنے سے گریز کریں کیونکہ غیر معمولی طلب سے مصنوعی قلت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔