عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو پَر لگ گئے
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ تناؤ اور آبنائے ہرمز سے متعلق سامنے آنے والے دعوؤں کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برطانوی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں 3.75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت بڑھ کر 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اسی طرح امریکی معیار کے خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی 3.65 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد یہ 74 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہونے لگا، عالمی منڈی میں دیگر خام تیل کی اقسام کی قیمتوں میں بھی اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات اور سرمایہ کاروں کی تشویش قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ خطے میں کسی بھی نئی پیش رفت کے براہِ راست اثرات تیل کی رسد اور قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق کیے گئے اعلانات اور دعوؤں نے بھی عالمی مارکیٹ میں بے یقینی کو بڑھایا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس کے باوجود سرمایہ کار ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ کے خدشے کے پیشِ نظر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایک ہفتے کے دوران پٹرول پر لیوی میں 15 روپے سے زائد کا اضافہ
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔