ایک ہفتے کے دوران پٹرول پر لیوی میں 15 روپے سے زائد کا اضافہ
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اگر حکومت پٹرولیم لیوی میں حالیہ اضافہ نہ کرتی تو صارفین کو پٹرول موجودہ نرخ سے 15 روپے 86 پیسے فی لٹر سستا مل سکتا تھا۔
اس صورت میں پٹرول کی قیمت 310 روپے 71 پیسے کے بجائے 294 روپے 85 پیسے فی لٹر بنتی۔
اعداد و شمار کے مطابق 3 جولائی تک پٹرول پر پٹرولیم لیوی 64 روپے 14 پیسے فی لٹر تھی تاہم حکومت نے 4 جولائی سے اس میں 6 روپے 22 پیسے فی لٹر اور 11 جولائی سے پٹرولیم لیوی میں مزید 9 روپے 64 پیسے فی لٹر کا اضافہ کر دیا۔
دونوں اضافوں کے بعد پٹرول پر عائد پٹرولیم لیوی بڑھ کر 80 روپے فی لٹر تک پہنچ گئی ہے جس کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے شہریوں پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان
معاشی ماہرین کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اضافہ براہِ راست ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور روزمرہ اخراجات پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے عام شہریوں کے گھریلو بجٹ پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی، ٹیکسز اور لیوی کے اثرات براہِ راست عوام پر منتقل کیے جا رہے ہیں، حکومت کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز اور لیوی کے بوجھ میں کمی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔