عالمی منڈی میں تیل سستا، قیمتوں میں 2 فیصد کمی
تازہ گراوٹ کے بعد خام تیل کی قیمت تقریباً 76 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی، جس نے توانائی کی عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس ہفتے کے آغاز میں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ اس سے قبل خام تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا، تاہم خطے میں جنگی خدشات نے قیمتوں کو تیزی سے اوپر دھکیل دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ختم ہو چکا ہے، عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھی، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو خطرات لاحق رہے تو مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی پر منفی اثر پڑے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 79 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل تقریباً 74 ڈالر فی بیرل کی سطح پر رہا۔ یہ قیمتیں جون کے وسط میں ریکارڈ کی گئی سطح کے قریب ہیں، جب ایران اور امریکا نے مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کیلئے ایک عارضی معاہدے کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی،ڈالر مستحکم
یاد رہے کہ گزشتہ روز عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جبکہ امریکی خام تیل بھی تقریباً ایک فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔ اسی دوران اماراتی مربن خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی تھی۔