عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
اس پیش رفت نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی کے مستقبل سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے تیل کی خریداری میں دلچسپی بڑھا دی۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں بدھ کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 33 سینٹ یا 0.45 فیصد اضافے کے بعد 73.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 34 سینٹ یا 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 69.84 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ اسی دوران اماراتی مربن خام تیل کی قیمت 69.10 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف دوحہ پہنچے، جہاں اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کا منصوبہ تھا، تاہم ایران اور میزبان ملک قطر نے واضح کر دیا کہ امریکی وفد کی ایرانی حکام سے کوئی براہِ راست ملاقات نہیں ہوگی بلکہ تمام رابطے ثالثوں کے ذریعے کیے جائیں گے۔
اس دوران قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے امریکی وفد سے ملاقات کی اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں حالیہ دنوں نسبتاً کمی آئی ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آ چکی ہے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تعطل نے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، اسی غیر یقینی کیفیت کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کا ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس اہم آبی گزرگاہ سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو چکی ہے، جس سے عالمی سپلائی کا نظام مستحکم ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 26 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 6.1 ملین بیرل کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پیٹرول کے ذخائر بھی کم ہوئے ہیں۔