پنجاب: گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کی شرح میں ہوشربا اضافہ
حکومتِ پنجاب کی جانب سے نئے مالی سال کا فنانس بل جاری کردیا گیا۔
فنانس بل کے مطابق ایک ہزار سی سی زائد کی کمرشل اور بڑی گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ کار ڈیلرز کو بطور حکومت کے ود ہولڈنگ ایجنٹ کام کرنے کا پابند قرار دیا گیا ہے۔
رجسٹریشن کے بغیر گاہک کو گاڑی ڈیلیور کرنے پر شو روم مالکان کو بھاری جرمانے کا سامنا کرناپڑے گا۔
نئے فنانس بل میں کمپنیوں کے لیے ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کی رقم 5 سے 10 لاکھ روپے تک مقرر کی گئی ہے، مسلسل دو ماہ تک ریٹرن جمع نہ کروانے والے تاجروں کو ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ فارن ایکسچینج کمپنیوں اور منی چینجرز کی سروسز پر بھی تین فیصد ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز ہے، حکومت پنجاب کی جانب سے کچی کپاس پر عائد ’کاٹن فی‘ کو ختم کردی گئی جبکہ نئے شروع ہونے والے کاروبار پہلے چھ ماہ تک ٹیکس قوانین سے مستثنیٰ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بجٹ: تنخواہوں میں 7، پنشن میں 3.5 فیصد اضافہ تجویز
پراپرٹی ٹیکس تاخیر سے جمع کرانے پر عائد ماہانہ جرمانہ ختم کر دیا گیا ہے جبکہ نان رجسٹرڈ تاجروں کو سرکاری ٹھیکے، لائسنس یا این او سی کا اجراء نہیں کیا جائے گا۔
پی آر اے قوانین کی خلاف ورزی اور انوائس نہ دینے پر جرمانوں میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے۔
فنانس بل کے مطابق ہوٹل پر کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی پر 8 فیصد سیلز ٹیکس کا اطلاق ہو گا جبکہ مختلف عام سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح بھی 5 سے بڑھا کر 8 فیصد کردی گئی ۔