سولر پینلز کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ

Solar Panel Prices Pakistan
فائل فوٹو
Updated | Published June, 7 2026 |
لاہور:(ویب ڈیسک) وفاقی بجٹ پیش ہونے سے قبل ہی سولر توانائی کے شعبے سے وابستہ صارفین کیلئے تشویشناک خبر سامنے آ گئی۔

مارکیٹ رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران سولر پینلز کی فی پلیٹ قیمت میں 7 ہزار سے 9 ہزار روپے تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث گھریلو اور تجارتی صارفین کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

قیمتوں میں اضافے کے بعد 585 واٹ کا سولر پینل، جو پہلے تقریباً 18 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب 27 ہزار روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

سولر مارکیٹ سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ بجٹ سے قبل ممکنہ ٹیکسوں، درآمدی پالیسیوں میں تبدیلیوں اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب سولر سسٹم لگانے کا ارادہ رکھنے والے صارفین نے قیمتوں میں اچانک اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے بچنے کے لیے سولر توانائی ایک مؤثر متبادل بن چکی تھی، لیکن قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس منصوبے کو مہنگا بنا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں یہ رجحان برقرار رہا تو قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، سولر سیکٹر کے لیے سازگار پالیسیاں متعارف کرائی جائیں تاکہ عوام کو سستی اور ماحول دوست توانائی کی سہولت میسر آ سکے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول سستا مگر عوام کو ریلیف نہ مل سکا، وجہ سامنے آگئی

واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران سولر توانائی کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بنیادی وجہ بجلی کے بلند نرخ اور لوڈشیڈنگ کے مسائل ہیں۔