ٹیکس وصولی بڑھانے کیلئے آئی ایم ایف کے نئے مطالبات سامنے آگئے

آئندہ مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی بڑھانے کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے نئے مطالبات سامنے آ گئے۔
فائل فوٹو
Updated | Published May, 30 2026 | Muhammad Bilal
اسلام آباد: (سنو نیوز) آئندہ مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی بڑھانے کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے نئے مطالبات سامنے آ گئے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے تمام طبقات سے انکم ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جائے، صوبے زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی میں نمایاں پیش رفت دکھائیں، صوبوں کو آئندہ مالی سال 400 ارب روپے کی اضافی ٹیکس آمدن حاصل کرنا ہو گی۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ پنجاب اور سندھ کو زرعی انکم ٹیکس وصولی میں نمایاں پیش رفت دکھانا ہو گی ، زرعی آمدن پر درست ٹیکس وصولی سے 800 ارب روپے تک کی اضافی آمدن ہو سکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت سے تاجروں کو انکم ٹیکس نیٹ میں لانے کا مطالبہ کیا ہے، ایف بی آر نے تاجر دوست اسکیم کے تحت 32 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا تھا ، ان ریٹیلرز سے 500 ارب روپے سالانہ ٹیکس وصولی کا اندازہ تھا۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران تاجروں کی مشاورت سے نئی اسکیم لانچ کی جائے گی ، تاجروں کی آسان اسکیم کے تحت رجسٹریشن سے 300 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس وصولی کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے سیلز ٹیکس وصولی میں تمام مراعات واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے، حکومت پر زرعی ان پٹس اور سولر پینلز پر مکمل ٹیکس وصولی کا دباؤ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے آئی ایم ایف کا ایک اور بڑا مطالبہ پورا کر دیا

آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ خلیج کشیدگی جاری رہنے سے پٹرولیم امپورٹ بل میں اضافہ ہو سکتا ہے ، درآمد کی لاگت بڑھنے اور ترسیلات زر میں کمی سے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں استحکام کیلئے پرتعش اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹیز بڑھنے کا امکان ہے ، سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 سے بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کا امکان ہے، موبائل فونز اور گھڑیوں کی درآمدات اور جانوروں کی درآمد شدہ خوراک پر بھی ٹیکس بڑھنے کا امکان ہے۔