او سی اے سی، اوگرا، پی پی آئی ایس اور انڈسٹری کے اعدادوشمار کے مطابق پہلے نو ماہ میں ایک کروڑ 32 لاکھ 77 ہزار 646 میٹرک ٹن پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات ریکارڈ کی گئیں جو 6 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ایک کروڑ 24 لاکھ 92 ہزار 312 میٹرک ٹن پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات ریکارڈ کی گئی تھیں۔
اعدادوشمار کے مطابق مارچ میں 13 لاکھ 37 ہزار 760 میٹرک ٹن پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات ریکارڈ کی گئیں جو فروری کے 13 لاکھ 32 ہزار 926 میٹرک ٹن کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست واپسی
دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی تجویز ہے اور آئی ایم ایف کی مشاورت سے سپرٹیکس میں بتدریج کمی کی جائے گی۔ بی آئی ایس پی کے مستحقین کے وظیفے میں پانچ ہزار روپے کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔
وزارتِ خزانہ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائے گا۔ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں مختلف شعبوں کو حاصل انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ خصوصی اقتصادی زونزسمیت نئی ٹیکس چھوٹ یااستثنی نہیں دیا جائے گا۔
سپیشل اکنامک زونزکو پہلے سے حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے گی۔ ایکسپورٹ زونز میں تیار مصنوعات مقامی مارکیٹ میں بیچنے پر پابندی ہوگی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں باقاعدہ بروقت اضافہ لازمی قرار دیا جائے گا۔
آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کے مطابق ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سخت کرنے پر بھی زور دیا ہے، بی آئی ایس پی کی سہ ماہی رقم ساڑھے چودہ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے انیس ہزارروپے کی جائے گی، ایف بی آر کے آڈٹ نظام کومضبوط اورمرکزی بنایا جائے گا،وفاقی بجٹ میں نئے اکنامک زونز بنانے پرفی الحال پابندی عائد رہے گی۔