سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق موجودہ حکومت کے ابتدائی دو سالوں کے دوران سرکاری قرضوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق مجموعی قرضہ 15 ہزار 72 ارب روپے بڑھ گیا ہے۔
مرکزی بینک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ دستاویزات کے مطابق یہ اضافہ مارچ 2024 سے فروری 2026 کے عرصے میں ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے دوران قرضوں میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 21 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیزل کے بعد پیٹرول سستا کرنے کی تیاریاں
اس مدت میں مقامی قرضوں میں 14 ہزار 4 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں میں ایک ہزار 68 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی سرکاری قرضہ بڑھ کر 79 ہزار 882 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ فروری 2024 میں نگران حکومت کے اختتام پر مجموعی قرضہ 64 ہزار 810 ارب روپے تھا جو موجودہ حکومت کے دور میں تیزی سے بڑھا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق قرضوں میں یہ اضافہ مالی خسارے، بڑھتے اخراجات اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کا نتیجہ ہے جبکہ مستقبل میں قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے موثر حکمت عملی کی ضرورت پر بھی زور دیا جارہا ہے۔