جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد یہ 83 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے، اسی طرح برطانوی خام تیل کی قیمت میں بھی 9 فیصد کمی ہوئی ہے اور اب یہ 90 ڈالر فی بیرل کے قریب فروخت ہو رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں یہ کمی سیاسی اور سفارتی پیش رفتوں کا نتیجہ ہے، جس سے توانائی کی منڈی پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ تہران اپنی فضائی حدود اور سمندری راستوں کے حوالے سے نئی پالیسی اختیار کر رہا ہے، جہازوں کی آمد و رفت پر کوئی اضافی فیس عائد نہیں کی جائے گی، تاہم داخلے کیلئے ایرانی حکام سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ دوست ممالک کے جہاز ایرانی افواج کے ساتھ رابطے کے بعد اس علاقے سے گزر سکیں گے۔
ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام یا سلامتی میں کسی بیرونی طاقت کا کردار قبول نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:تیل کی قیمت میں 21 روپے 34 پیسے فی لیٹر کمی
اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا رجحان جاری رہ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑیں گے۔