تفصیلات کے مطابق ایران سے متعلق مذاکرات پر وائٹ ہاؤس کے بیان کے بعد عالمی منڈیوں کا رخ بدل گیا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تبدیلی کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی سامنے آئی، برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 1.36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد اس کی نئی قیمت 98.13 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
اسی طرح امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں بھی 1.4 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 93.29 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے، عالمی سطح پر یہ کمی توانائی کی سپلائی سے متعلق بہتر توقعات کی عکاسی کرتی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ایٹمی معاہدے کی خبریں مارکیٹ میں ایرانی تیل کی ممکنہ واپسی کا اشارہ دے رہی ہیں، اگر ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی ہوتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی بڑھ سکتی ہے، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کیا رجحان رہا؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی سیاست اور توانائی پالیسیوں سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔