ذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈویژن نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ تیار کر لیا ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے جائزے کی روشنی میں پٹرول کی قیمت میں 11 روپے فی لیٹر کی کمی کا امکان ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 56 روپے فی لٹر اضافہ متوقع ہے۔
پٹرولیم ڈویژن ذرائع کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا )کی سمری پر کل وزیر اعظم شہباز شریف سے مشاورت کی جائے گی، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدل سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔
اس حوالے سے ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے لئے تاحال حتمی جواب نہیں دیا، صوبائی حکومتیں پٹرولیم لیوی سے سبسڈی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیشتر ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ہوشربا اضافہ
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتوں کا مؤقف ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باعث ان کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی خبر بھی سامنے آئی تھی کہ ملک میں پٹرول کی قیمت 550 روپے جبکہ ڈیزل کی فی لٹر قیمت 750 روپے تک بڑھنے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل حکومت نے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55،55 روپے فی لٹر اضافہ کیا تھا جبکہ بعدازاں دو بار پٹرولیم مصنوعات کی قیموں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔