ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرول کی قیمت 550 روپے جبکہ ڈیزل کی فی لٹر قیمت 750 روپے تک بڑھنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے سے متعلق پٹرولیم ڈویژن نے سمری تیار کر لی ہے جو کہ وزیراعظم شہباز شریف کو ارسال کی جائے گی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ردوبدل سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت نے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55،55 روپے فی لٹر اضافہ کیا تھا جبکہ بعدازاں دو بار پٹرولیم مصنوعات کی قیموں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں کو آگ لگا دی
اب ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منظر نامے کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں تقریباً 200 روپے سے زائد اضافے کا امکان ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اس حد تک اضافے کا فیصلہ کرتی ہے تو مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا، پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش، سبزیوں، آٹے اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔
ماہرین کے مطابق عوامی سطح پر قوتِ خرید میں کمی آئے گی جبکہ متوسط طبقہ سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہوگا، جس سے مجموعی معاشی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔