مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں کو آگ لگا دی
Middle East tensions oil prices
فائل فوٹو
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے دنیا بھر کی معیشتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

خطے کی غیر یقینی صورتحال نے توانائی کی سپلائی کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر نمایاں ہو رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق برطانوی خام تیل کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ برینٹ کروڈ کی قیمت بھی بڑھ کر 105 اعشاریہ 3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ 102 اعشاریہ 7 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں بھی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق ڈیزل کی قیمت 2 اعشاریہ 72 درہم اضافے کے بعد 4 اعشاریہ 69 درہم فی لیٹر تک جا پہنچی ہے، جس سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امارات میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند ترین سطح پر جا پہنچیں

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

دوسری جانب حکومتیں متبادل توانائی ذرائع پر توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دے رہی ہیں تاکہ اس طرح کے بحرانوں سے نمٹا جا سکے۔