انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے صورتحال پر تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہے، وزیراعظم نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے پر آج اجلاس کیے ہیں، خطے کی صورتحال کے معاملے ہمارے مختلف ممالک سے رابطے بھی ہوئے ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گا۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ نے پٹرولیم ڈویژن کی جس طرح رہنمائی کی اس پر ان کا شکرگزار ہوں، خطے کی جو صورتحال ہے کچھ کہا نہیں جا سکتا یہ صورتحال کب تک چلے گی، خطے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم نے پٹرولیم ذخائر کو مستحکم کر لیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جن پٹرول پمپس کی جانب سے غیر ضروری بحران پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ان کے خلاف وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تیل کے دو جہاز جلد پاکستان آرہے ہیں جس سے توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: رواں ہفتے پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ یکم مارچ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہم نے نظرثانی کی اس وقت پٹرول کی قیمت 78 ڈالر اور ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل تھی، آج ان کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے، آج 6 مارچ کو پٹرول کی قیمت 106 ڈالر 80 سینٹ اور ڈیزل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ مجبوراً ہمیں قیمتوں میں اضافے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جا رہا ہے، جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی، قیمتوں کو واپس اپنی سطح پر لائیں گے، ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
قبل ازیں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت پٹرولیم بحران سے متعلق اجلاس ہوا جس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے سٹاک اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کے باعث بین الاقوامی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ضروری ایڈجسٹمنٹ کے لیے وزارت پٹرولیم کی سفارشات پر غور کیا، اجلاس میں وزیر خزانہ، وزیر پٹرولیم، وزیر تجارت، وزیر ریلوے و خزانہ، متعلقہ وزارتوں، اوگرا، پارکو اور دیگر سرکاری محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اس کو بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کا مطالبہ
دوسری جانب پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے رہنما نعمان علی بٹ نے پٹرولیم بحران پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم سیکٹر میں اس وقت سپلائی کے مسائل ہیں، کئی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ڈیلرز کو مطلوبہ مقدار میں پٹرولیم مصنوعات کا اسٹاک فراہم نہیں کر رہیں ، صرف پاکستان اسٹیٹ آئل ڈیلرز کو وافر مقدار میں پیٹرول فراہم کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پینک بائنگ کے باعث بھی پٹرول پمپس پر غیر معمولی رش دیکھا جا رہا ہے ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے باعث شہری زیادہ مقدار میں پٹرول خرید رہے ہیں۔
پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے عوام سے پینک بائنگ نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شہری غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں، صورتحال قابو میں ہے، آل پاکستان پٹرول پمپ ڈیلرز ایسوسی ایشن حکومت کے ساتھ ہے ، پٹرولیم سپلائی کے معاملات جلد بہتر ہو جائیں گے۔