خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور تیل کی عالمی سپلائی میں تعطل کے تناظر میں وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے حوالہ سے قائم کی گئی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی، کمیٹی نے خطہ کی صورتحال کے باعث قیمتوں کا تعین ہفتہ وار کرنے کی سفارش کی تھی۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس تناظر میں وفاقی حکومت نے بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی ذرائع کا بتانا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں 25 روپے فی لٹر اضافہ متوقع ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 60 لٹر روپے فی لٹر تک مہنگا ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رواں ہفتے پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ
قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزارت پٹرولیم کی جانب سے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔
دوران اجلاس وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، جو بھی پٹرول پمپ مصنوعی قلت کے اس مکروہ دھندے میں ملوث ہو اس کو فوراً بند کیا جائے اور اس کا لائسنس منسوخ کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔
وزیراعظم نے وزیر پٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پٹرولیم مصنوعات کی بچت اور ان کی عوام کو بلاتعطل فراہمی کے حوالے سے لائحہ عمل و منصوبہ بندی تیار کریں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنایا جائے، جس کے ذریعے صوبوں کے ساتھ ریئل ٹائم میں ڈیٹا شیئر ہو اور پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے۔
اس کو بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کا مطالبہ
دوسری جانب پٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کے پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کے اعلان کو مسترد کر دیا۔
پٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان کے خلاف کارروائی کے اعلان کی مذمت کرتے ہیں ،پٹرول پمپ مالکان مصنوعی قلت پیدا نہیں کر رہے، پٹرول پمپس پر جو پٹرول آ رہا ہے وہ فوری فروخت ہو رہا ہے ، کوئی پٹرول پمپ پٹرول یا ڈیزل ذخیرہ نہیں کر رہا۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا کہ تمام پٹرول پمپس پر پٹرول کی فروخت جاری ہے ، جس حساب سے سپلائی دی جا رہی ہے اسی حساب سے پٹرول دستیاب ہے ، پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کا جواز سمجھ نہیں آتا۔
پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کا مزید کہنا ہے کہ کارروائی آئل سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف ہونی چاہیے ،پٹرول کی سپلائی اور ڈیمانڈ کی پلاننگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی بنتی ہے ،پٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کی بات بلاجواز ہے۔