مارکیٹ کے آغاز پر ہی شدید دباؤ دیکھا گیا اور پی ایس ایکس کے بینچ مارک 100 انڈیکس میں 633 پوائنٹس کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد انڈیکس گھٹ کر 1 لاکھ 72 ہزار 536 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ، معاشی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ اس مندی کی بڑی وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔ ابتدائی سیشن کے دوران بینکنگ، سیمنٹ اور انرجی سیکٹر کے حصص میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جس سے مجموعی انڈیکس نیچے آیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان غالب رہا تھا، گذشتہ کاروباری ہفتے کے دوران 100 انڈیکس مجموعی طور پر 6434 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 1 لاکھ 73 ہزار 169 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ اس عرصے میں مارکیٹ 10 ہزار 103 پوائنٹس کے وسیع بینڈ میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برائلر مرغی کا گوشت سستا ہو گیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر معاشی اور سیاسی استحکام سے متعلق مثبت پیش رفت سامنے نہ آئی تو مارکیٹ میں دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ تاہم طویل مدتی سرمایہ کار اسے خریداری کے موقع کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں معاشی اشاریوں اور حکومتی پالیسیوں پر مارکیٹ کی سمت کا انحصار ہوگا۔