سولر صارفین کیلئے نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف، بل کتنا آئیگا؟
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف کرا دیا ۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (سنو نیوز) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف کرا دیا۔

نیپرا کی جانب سے نئے ریگولیشنز 2026 کا نو ٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ، نئے ریگولیشنز کے مطابق پرانے سولر صارفین اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے پرانے ریٹس پر ہی فروخت کریں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق نئے صارفین کے لیے نیشنل گرڈ کو بیچی جانے والی بجلی کے فی یونٹ کی قیمت میں 17 روپے 19 پیسے کی بڑی کمی کر دی گئی، اب نئے صارف کو اس کی فی یونٹ قیمت 3 گنا سے بھی کم یعنی 8 روپے 13 پیسے ملے گی۔

نئے اور پرانے صارفین کے لیے نیٹ بلنگ کا بھی نیا نظام متعارف کرا دیا گیا ، صارف کا یونٹ اب سرکاری یونٹ کے برابر نہیں ہو گا، اب نیشنل گرڈ سے لی گئی ساری بجلی کی فی یونٹ قیمت حکومتی ٹیرف اور سلیبس کے حساب سے ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری

نیٹ بلنگ سے سولر صارفین کے بجلی بلوں میں نمایاں فرق آئے گا، اس تبدیلی کو سادہ اعداد و شمار کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔

فرض کریں اگر کوئی صارف گرڈ سے 500 یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے اور اس کے سولر پینلز 400 یونٹ بجلی پیدا کر کے گرڈ کو واپس دیتے ہیں تو پرانے اور نئے نظام میں بل کی صورتحال مختلف ہو گی۔

پرانا نیٹ میٹرنگ نظام:

پرانے نظام میں صرف استعمال اور پیداوار کا فرق دیکھا جاتا تھا، اس حساب سے 500 یونٹ میں سے 400 یونٹ منہا کرنے کے بعد صارف پر صرف 100 یونٹ کا بل بنتا تھا، جو تقریباً 33 روپے فی یونٹ کے حساب سے قریباً 3 ہزار 300 روپے بنتا تھا۔

نیا نیٹ بلنگ نظام:

نئے نظام میں بجلی خریدنے اور بیچنے کا حساب الگ الگ ہو گا،صارف 500 یونٹ بجلی تقریباً 33 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدے گا، جس کا بل تقریباً 16 ہزار 500 روپے بنے گا۔

دوسری جانب سولر سے پیدا ہونے والی 400 یونٹ بجلی حکومت تقریباً 10 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدے گی، جس پر صارف کو تقریباً صرف 4 ہزار روپے کا کریڈٹ ملے گا، کریڈٹ منہا کرنے کے بعد صارف کا مجموعی بل تقریباً 12 ہزار 500 روپے رہ جائے گا۔

ماہرین کے مطابق نیٹ بلنگ کے نفاذ سے سولر صارفین کے بلوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نظام سے بجلی کے شعبے میں شفافیت اور مالی توازن بہتر ہو گا۔