سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
عالمی منڈی
شدید فروخت کے دباؤ کے بعد عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک) شدید فروخت کے دباؤ کے بعد عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، جسے مارکیٹ میں ایک اہم بحالی قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق قیمتوں میں حالیہ کمی کی بڑی وجوہات میں امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کے عہدے کے لیے کیون وارش کی نامزدگی اور سی ایم ای گروپ کی جانب سے مارجن کی شرائط کو سخت کرنا شامل تھا۔ ان اقدامات کے بعد سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی فضا پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھی گئی اور سونا و چاندی دباؤ میں آ گئے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 4,767.33 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔ پیر کے روز سونا تقریباً ایک ماہ کی کم ترین سطح کو چھو گیا تھا، تاہم اس کے بعد مارکیٹ میں بحالی دیکھنے میں آئی۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کمی

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے جمعرات کو سونے کی قیمت 5,594.82 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ سطح تک بھی پہنچ چکی تھی۔ اسی طرح اپریل ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 3 فیصد بڑھ کر 4,791.10 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ بحالی اس بات کی علامت ہے کہ قیمتیں اب نسبتاً زیادہ معقول سطح پر آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ موجودہ تیزی نے قیمتوں کو جنوری کے دوسرے نصف کے آغاز والی سطح کے قریب پہنچا دیا ہے، جو مارکیٹ کے لیے ایک توازن کی صورتحال سمجھی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری کے مہینے میں سونے کی قیمت میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو نومبر 2009 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ بڑھوتری تھی۔ اسی عرصے کے دوران چاندی کی قیمت میں بھی 19 فیصد تک اضافہ ہوا، جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ تاہم کیون وارش کی نامزدگی کے بعد امریکی ڈالر کی قدر میں مضبوطی اور مارجن کی شرائط میں اضافے نے قیمتی دھاتوں پر دباؤ بڑھا دیا تھا۔