تازہ رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 172 ڈالر کی بڑی گراوٹ کے بعد 4721 ڈالر کی سطح پر آ گیا ہے۔ ٹریڈنگ کے دوران سونے کی قدر میں 3 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی، جو حالیہ عرصے کی بڑی کمیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت میں اس اچانک کمی کی کئی وجوہات ہیں۔ عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی قدر میں مضبوطی، شرحِ سود میں ممکنہ اضافے کے اشارے اور مالیاتی پالیسیوں میں سختی نے سونے پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ چونکہ سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، اس لیے جب عالمی معیشت میں شرحِ سود بڑھنے کی توقع ہوتی ہے تو سرمایہ کار سونے کے بجائے دیگر مالیاتی اثاثوں کا رخ کرتے ہیں، جس سے سونے کی طلب میں کمی آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیزل مہنگا، پیٹرول کی قیمت برقرار
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینک سخت مالی اقدامات کر رہے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بانڈز اور دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع نسبتاً زیادہ پرکشش ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سونے کی مانگ متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی بھی سونے کی قیمت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
سونے کی قیمت میں کمی کا اثر صرف عالمی سطح تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات مقامی منڈیوں پر بھی پڑتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کم ہونے کی صورت میں مقامی مارکیٹس میں بھی قیمتوں میں کمی کا امکان ہوتا ہے، تاہم اس کا انحصار مقامی کرنسی کی قدر، ٹیکسز اور دیگر معاشی عوامل پر ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت کا دارومدار عالمی معاشی حالات، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں اور جغرافیائی سیاسی صورتحال پر ہوگا۔ اگر عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا تو سونے کی قیمت دوبارہ استحکام یا اضافہ بھی دیکھ سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔