
ایف بی آر کی جانب سے اس مقصد کے تحت انکم ٹیکس رولز 2002 میں ترمیمی مسودہ بھی پیش کیا گیا ہے جس پر اسٹیک ہولڈرز کو سات روز میں اپنی آراء دینے کی مہلت دی گئی ہے۔
ایف بی آر کے مطابق آن لائن کاروبار کرنے والے تمام اداروں کو اب ہر ماہ اپنی مالیاتی رپورٹس لازمی جمع کرانا ہوں گی، اس مقصد کے لیے اداروں کو فارم "اے ون" اور "اے ٹو" پر تفصیلات دینا ہوں گی، جن میں این ٹی این، بینک اکاؤنٹس، فروخت کنندہ کا نام، پتا اور انوائس نمبر شامل ہوں گے۔
اس کے علاوہ کاروباری اداروں کو اپنی آمدن اور اخراجات کے ساتھ ساتھ ماہانہ لین دین کی مکمل تفصیلات بھی ایف بی آر کو دینا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر نے ڈیجیٹائزیشن کیلئے اقدامات مزید سخت کر دیے
ایف بی آر کی جانب سے کوریئر سروس کمپنیوں کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ ہر سہ ماہی پر اپنی مالیاتی رپورٹس فارم "ون" پر ایف بی آر کو جمع کرائیں، اسی طرح آن لائن مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو علیحدہ فارم کے ذریعے اپنی ٹیکس تفصیلات جمع کرانا ہوں گی۔
ایف بی آر کے مطابق آن لائن کاروباری اداروں کو ٹیکس معلومات فراہم کرتے وقت حلفیہ بیان دینا لازمی ہوگا تاکہ کسی قسم کی بے ضابطگی نہ ہو۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے گا بلکہ ڈیجیٹل معیشت میں شفافیت اور ریگولیشن کو بھی یقینی بنائے گا۔