میرا بطور جرنلسٹ اور وہ بھی مختلف بیٹس کے ساتھ ایف آئی اے اور ایوی ایشن کی بیٹ کور کرنے کے ساتھ ایئرپورٹ پر ہفتے میں کئی بار آنا جانا لگا رہتا ہے تاکہ کہ کوئی ایکسکلوزیو خبر دے سکوں۔ چند دن قبل یعنی 17 ستمبر کو بھی جانا ہوا۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی ایئرپورٹ پر سروسز پروائیڈر کا محکمہ ہے۔ ایئرپورٹ پر ایئرپورٹ سیکورٹی فورس، کسٹم اینٹی نارکوٹکس فورس ایف آئی اے امیگریشن ایئرلائن عملہ چیک ان ایجنٹس اپنا کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ عموما کراچی ایئرپورٹ پر رات 9 کے بات بین الاقوامی فلائٹ زیادہ ہوتی ہیں جو ذیادہ تر مشرق وسطیٰ اور ایک دو فار ایسٹ ملکوں کی ہوتی ہیں۔
ایئرپورٹ پر مسافروں کا اچھا خاصہ رش تھا ایئرپورٹ کے بین الاقوامی ڈیپارچر میں داخل ہونے سے قبل مسافروں کی اے ایس ایف اہلکار ٹکٹ پاسپورٹ چیک کرتے ہیں پھر مرحلہ سامان کی اسکیننگ کا تھا۔ مسافروں نے سامان اسکیننگ مشین میں ڈالے ساتھ ہی ایک۔ایک کرکے داخل ہونے والے مسافروں کی چیکنگ کا عمل جاری رہا۔ اسکے بعد ایئرلائن کائونٹر پہنچے تو چیک ان عمل کے بعد بورڈنگ پاس لیے اور امیگریشن کے لیے مسافروں کو داخل ہوتے دیکھا۔ وہیں ساتھ ایک مسافر جس کا تعلق ملتان سے تھا اسے الگ لے جاکر ایف آئی اے اہلکاروں نے اپنے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نند لال کے پاس لے گیا۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا رویہ مسافر کے ساتھ بہت خراب دیکھا، مسافر سے پوچھا تم ملتان سے ہو یہاں سے کیوں جارہے ہو۔ مسافر نے بتایا کہ یہاں سے سستا ہے اس لیے جارہا ہوں کراچی ایئرپورٹ سے۔ میں نے دیکھا ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر صاحب نے کئی بار مسافر سے رعب دبدے کے ساتھ دھکے بھی دیے۔ مسافر رو رہا تھا اور اس کی عمر لگ بھگ 22 سے 25 سال لگ رہی تھی۔ مسافر کو دھمکیوں کے ساتھ ایئرپورٹ پولیس سے گرفتاری
کی دھمکی بھی ایف آئی اے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جو اپنے عہدے اور پاور کا استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیا۔
اس وقت میرے زہن میں سوالات آئے کہ پاکستانی ہونا اصل بات ہے، شہری کسی ایئرپورٹ سے بھی بیرون ملک جائے اس سے ایف آئی اے اہلکاروں کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہان البتہ کسی کے دستاویزات میں مسئلہ ہو تو پھر نہ جانے دیا جائے یا قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ملتان سے تعلق رکھنے والا نوجوان مسافر با رہا صاحب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر رو رو کر گڑ گڑا کر جانے کے لیے منتیں ترلے کرتے دکھائی دیا، ساتھ امیگریشن افسر کی فرعونیت بڑھتی دکھائی دی۔
بہرحال ایف آئی اے امیگریشن کے اس افسر اور اہلکاروں کے رویے پر بطور صحافی مجھے حیرت ہوئی کہ وزیر داخلہ محسن نقوی ایسے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جو مسافروں سے پوچھ گچھ کی جگہ صرف یہ کہیں کہ پنجاب سے ہو وہاں سے جاؤ کراچی ایئرپورٹ سے کیوں؟؟؟ خیر میں آگے نکل کر فیملی کے لوگوں کے ساتھ امیگریشن مکمل ہونے پر نکل گیا۔ لیکن یہ دھکے دینے اور فرعونیت والا رعب اور ملتان کے ہو تو وہاں سے جائو ہاں مسافر کی ایک بات میں بھول گیا اس نے یہ بھی کہا جو میں نے سنا کہ کراچی سے سعودی یا شارجہ دبئی یعنی ہو اے ای کا ٹکٹ سستا ہے۔
مسافر مزدوری کے لیے ہی بیروں ملک جاکر کمانے کا خواب لیے جارہا تھا شاید، محسن نقوی صاحب ہزاروں پاکستانیوں کو بیرون ملک نہ جانے دینا چند ماہ میں آپکی کامیابی نہیں بلکہ یہ تو ملک کے نوجوان جو خواب لیے جانا چاہتے ہیں روکے گئے ہونگے۔ محض اس لیے کہ سندھ سے تعلق رکھتا ہو تو وہ لاہور ملتان سیالکوٹ سے نہیں جاسکتا یا پھر پنجاب سے تعلق ہو تو کراچی ایئرپورٹ پورٹ سے بیرون ملک نہیں جاسکتا یہ کس قانون میں لکھا ہے۔
بہر حال کراچی ایئرپورٹ جو امیگریشن کر رہے تھے کاؤنٹر پر وہ بڑے پروفیشنل طریقے سے مسافروں سے ایک دو سوالات کے بعد اسٹمپ لگا کر امیگریشن مکمل کر رہے تھے۔ اچھا ہے غیر قانونی جعلی دستاویزات والے مسافروں ایجنٹ مافیا کو لگام دیں لیکن جس طرح رویہ ڈیپارچر پر موجود کھڑے افسر صاحب کا تھا جس کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ مسافروں کو دھکے دے۔
یہ انٹر نیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن رولز کے بھی خلاف ہے اور ایئر پیسنجر قانون کے بھی خلاف ہے اور مجھے یقین ہے کہ ایسا رویہ امیگریشن قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ بہر حال مسافروں کی سہولت اور مدد اور رہنمائی کے بجائے انہیں ذلیل وخوار نہ کریں۔ ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب اس طرف بھی توجہ دیں اور اپنے امیگریشن پر ایئرپورٹ پر تعینات تمام ملازمین کی لازمی تربیت کرائیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ۔پالیسی بھی امیگریشن والوں کو واضح کردیں کہ چاہے پنجاب سے ہو، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر سے کوئی شہری کیوں نہ ہو اگر پاسپورٹ پاکستان کا ہے اور تسلی بخش دستاویزات ہیں تو کسی کو روکنا نہین چاہیے۔
بیرون ملک جاکر پروفیشنل پاکستانی ڈاکٹرز، نرسز، مزدور بیرون ملک سے پاکستان ڈالرز بھیجتے ہیں اور ترسیلات زر کی مد میں پاکستان کی خدمت ہوتی ہے۔ لیکن دستاویزات درست ہونے کے باوجود مسافروں کو صرف یہ کہہ کر نہ جانے دینا اور آف لوڈ کرنا کہ تم بلوچستان سے ہو یا سندھ سے یا پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ہو وہاں کے ایئرپورٹ سے جائو۔ اس حوالے سے پالیسی واضح ہونی چاہیے اور مسافروں کو دھمکانے دھکے دینا خوار کرنا یا مدد کرنا یا رہنمائی فراہم کرنے کے حوالے سے رویہ۔کے حوالے سے اچھی تربیت وقتا فوقتاً ایف آئی اے امیگریشن اہلکاروں کو افسران کو لازمی دی جائے۔ تاکہ بیرون جانے والے مسافر جو اگر پہلی بار بھی جارہا ہو تو وہ اچھے مثبت رویے کو لیکر جائے نہ کہ دھکے دھمکانے جیسے منفی خیالات لیتا ہوا بیرون ملک جائے۔
ساتھ ہی ساتھ ایک بات اور نوٹ کی کہ ون ونڈو فسیلیٹیشن ڈیسک مکمل خالی تھی جو مختلف محکموں جو کہ مسافروں کی مدد کے لیے بنائی گئی تھی وہاں کسی محکمہ کا ملازم نہ ہونا بھی عجیب لگا۔
خیر بات ملتان کے نوجوان مسافر کے ساتھ کراچی ایئرپورٹ پر تعینات ایف آئی اے امیگریشن افسر اور اہلکاروں کے رویے کی تھی۔ اس حوالے پالیسی واضح ہونی چاہیے کہ پاکستان کے کسی بھی شہر کے بین الاقوامی ایئرپورٹس سے مسافر جاسکے، شرط صرف پاکستانی ہونا چاہیے۔ مسافروں کو سہولت فراہم کریں، ان کی رہنمائی کریں نہ کہ دھونس دھمکی دیں۔